بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے پاکستانی حمایت یافتہ شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔ اس کے جواب میں، بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے پاکستان کی زرعی معیشت اور پانی کی فراہمی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے افغانستان سے دراندازی کرنے والے 54 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو کہ حالیہ برسوں میں سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس دوران، لیپا وادی میں دونوں
اسلام آباد اور تہران کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ یہ معاہدہ اسلام آباد میں ایک رسمی تقریب میں وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر کی موجودگی میں طے پایا۔ معاہدے کی اہم شرائط دونوں ممالک کے درمیان 80 فیصد تجارتی اشیاء پر ٹیرف ختم کیا جائے گا ایران سے گیس اور تیل کی ترسیل کے لیے نئے پائپ لائن منصوبے شروع ہوں گے سرحدی تجارت کے لیے نئے چیک پوسٹس قائم کیے جائیں گے مشترکہ صنعتی زونز کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے وزیر خارجہ کا بیان پاکستانی وزیر خارجہ اسد مجید نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی معیشتوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں اقتصادی استحکام کو فروغ دے گا۔ بین الاقوامی ردعمل چین نے اسے علاقائی تعاون کی ایک اہم کوشش قرار دیا ہے بھارت نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے مزید تفصیلات کا انتظار ظاہر کیا ہے امریکہ کی طرف سے فی الحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ماہرین کا تجزیہ معاشی ماہر ڈاکٹر عائشہ رحمان کے مطابق اس معاہدے سے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی جبکہ ایران کو ایک ا...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں